اداس کندھے

وہ سخت غصے میں کپکپا رہا تھا۔ مجھے سمجھ نہیں آرہی تھی کہ اسے کس طرح رام کروں۔ یہ کیا بات ہوئی کہ امریکی اور یورپین اور دیگر ترقی یافتہ ممالک کی عوام کی زندگیاں تو قیمتی ہوں اور ہماری کوئی اوقات ہی نہیں؟ اس نے پھنکارتے ہوئے سوال داغ دیا۔۔ میں اس کی حالت دیکھ کر روہانسا ہو گیا۔ اور اسے ٹھنڈا کرنے کیلئے نرم لہجے میں کہا۔ بھائی آپ کی بات بالکل ٹھیک ہے۔ اللہ نے تمام انسانوں کو برابر پیدا کیا اور سب کے حقوق بھی ایک جیسے ہی ہیں۔ اس کے چہرے پر اپنی دل کی … مکمل تحریر پڑھیں

غلط فہمی

آج وہ کئی عشروں بعد اپنے آبائی گھر واپس آیا تھا، اور اس کے ذہن کی سکرین پر ماضی کی یادیں چل رہی تھیں ۔ یہاں دو جزیرے تھے ، آمنے سامنے، ایک آباد تھا اور دوسرا غیر آباد، آباد جزیرے سے غیر آباد جزیرے کا فاصلہ پانچ سو میٹر تھا، گرمیوں کے موسم میں نوجوان لڑکے لڑکیاں تیراکی کرتے ہوئے غیر آباد جزیرے تک آتے جاتے تھے۔ شاید نوعمری کے مہم جوئی کے جذبہ کو تسکین دیتے تھے۔ آباد جزیرے کا بڑے مرکزی ملک سے بھی چند سو میٹر کا فاصلہ تھا، صبح شام مخصوص اوقات میں ایک اسٹیمر … مکمل تحریر پڑھیں

احساس کا درد

خالق نے تخلیق کیا اور بتا دیا کہ اتنا ہی بوجھ ڈالا جائے گا جتنا برداشت کر سکو گے۔ “ہمت” کر “برداشت” کر یا “پاس ” کر۔ یہاں سے دو طبقے وجود میں آجاتے ہیں ، “ذمہ دار” اور “غیر ذمہ دار” اور یہی “مشکل” ہے ، کہ ہم “ذمہ دار” اور “غیر ذمہ دار” میں فرق نہیں کر سکتے ۔۔شاید اسے ہی “احساس” کا ہونا اور نہ ہونا کہتے ہیں۔ یا “احساس” کرنے والا اور “احساس” نہ کر سکنے والا کہہ سکتے ہیں۔ “غیر ذمہ دار” اپنا سارا بوجھ “احساس ذمہ داری” رکھنے والے پر ڈال کر ہاتھ جھاڑ … مکمل تحریر پڑھیں

جاپانیوں کا نیا سال

جاپانیوں کا نیا سال ****** جاپانیوں کا نیا سال کچھ یوں ہوتا ہے کہ جو جوان و نوجوان و لڑکے مڑکے اور لڑکیاں مڑکیاں ہیں۔ وہ تو مستی و خوشحالی میں ایک دوسرے میں مگن رہ جاتے ہیں۔ اور جن پر “معاشرے ” نے عمر کے ساتھ ساتھ ذمہ داری کا بوجھ ڈال دیا ہوتا ہے۔ وہ اپنے کاروباری و خاندانی و نجی و ذاتی تعلقات والوں کو سال کے اختتام کا سلام و مبارک باد دینے حاضر ہوتے ہیں۔ اور اسی طرح جب نیا سال شروع ہوتا ہے تو نئے سال کا سلام و مبارک باد دینا لازمی ہوتا … مکمل تحریر پڑھیں

لوگ تو کہیں ہی گئے۔

شخصیات، اشیاء ، نظریات ، خیالات کے بارے میں تھوڑے زیادہ یا محتاط انداز میں “لوگ” اپنا ہم خیال سمجھ کر “ہم ” سے گفتگو کرتے ہیں۔ ہم جب لوگوں سے ان کی “باتیں” سننے کیلئے خاموشی سے کان ان کی باتیں سننے کیلئے کھول دیتے ہیں۔اور کھلنے کیلئے زور دیتی زبان کو بند رکھتے ہیں تو لوگوں کی اکثریت مطمعین ہو جاتی ہے۔ اور لوگ خیال کرتے ہیں کہ وہ ہمیں “سمجھتے” ہیں۔ لیکن ایسا نہیں ہوتا ۔ لوگ صرف ہمیں جانتے ہیں ۔… کیونکہ لوگوں کے سامنے ہماری کوئی “حرکت” ،کوئی “عادت” ہو تی ہے ۔جس سے وہ … مکمل تحریر پڑھیں

سفرِیورپ اور میری “ابنِ بطوطیاں” دوسری قسط

نکلے تو اٹلی کیلئے تھے، لیکن ائیر لائن کیوںکہ جرمنی کی لفٹ ھانسا تھی ، اس لئے جرمنی کے شہر فرینکفروٹ سے ہمیں “ای یو” میں انٹری مارنی تھی۔ فلائٹ لیٹ ہو جانے کی وجہ سے فرینکفروٹ سے وینس کی فلائٹ کینسل ہو چکی تھی۔ پوچھنے پر معلوم ہوا کہ پائلٹوں وغیرہ نے ہڑتال کی ہوئی ہے۔ اس لئے سات تاریخ کو کوئی بھی فلائیٹ میسر نہیں ہے۔مزید معلومات کیلئے لفٹ ھانسا کے کاؤنٹر پر جانا تھا۔ “پاکی” ہونے کی وجہ سے کھٹکا تھا کہ جاپانی پاسپورٹ دیکھ کر شاید امیگریشن پر ایک طرف کھڑا ہونے کا کہا جائے۔ لیکن ایسا … مکمل تحریر پڑھیں

سفرِیورپ اور میری “ابنِ بطوطیاں” پہلی قسط

فارغ تو ہوں ہی پاکستان یاترا کرنا تو مجبوری ہے۔ کہ اماں ابا وہاں رہتے ہیں ، ورنہ مجھے تو ساری زندگانی کا دکھ ہی کھائے جا رہا ہے کہ پیدا کیوں نہ ہوا ادھر “اپنے” یورپیوں وغیرہ میں ۔ مجبوری ہے “خوامخواہ جاپانی” کے بھیس میں گذارہ کر رہا ہوں ۔ اب اگر اچھا ہوں تو “بڑوں” کی محنت ہے۔۔ میرا کیا قصور ؟ ۔۔۔۔مجبوری ہے جی۔ بس اسی فرصت کی وجہ سے اپنے راجہ جی اٹلی والی سرکاراں کی پونے تین ہزار بار کی سیاحتی دعوت قبول کر ہی لی ۔ اور پہلے اتنی بار ہی بار بار … مکمل تحریر پڑھیں

پہلی بار پاکستانیوں سے شناسائی

جاپانی بلاگ سے  ماخوذ۔ * اس دن میں گاؤں سے ٹوکیو پہلی بار گئی تھی۔ ھائی سکول تک اپنے صوبے سے باہر جانے کا موقعہ نہیں ملا تھا۔ ھائی سکول کے بعد ملازمت اختیار کر لی تھی۔۔کچھ پیسے جمع ہوئے تو ٹوکیو کیلئے چار دن کی سیاحت کا پروگرام بنایا۔ ٹوکیو کی سیاحت کے دوران کئی بار انڈین کری ریسٹورنٹ پر نظر پڑی ، ہمارے صوبے میں آجکل انڈین ریسٹورنٹ کافی تعداد میں ہو جانے کی وجہ سے “کری” اور نان اب میرے خیال میں جاپانیوں کیلئے بھی کوئی اجنبی خوراک نہیں رہی ۔۔ لیکن انڈین کے متعلق میرے ذہن … مکمل تحریر پڑھیں

ایویں ایویں بھاشن

ہمیں دنیاوی علوم کے ساتھ ساتھ دینی علوم بھی سیکھنے چاہیں کہ یہ ہمارا دینی فریضہ ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔… اگر دین، دنیا میں رہنےکے طریقے شریقے بتاتا ہے پھر تو ٹھیک ہے کہ انسانوں کے ساتھ معاشرت کرنے کا طریقہ سلیقہ آجائے گا۔ لیکن ۔۔اگر ،مگر چونکہ ،چنانچہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آلو گوبھی میں “کچھ” نظر آنا دین ہے۔ سر پہ ٹوپی اور عمامہ باندھ کر ناک کے نتھوں سے پھنکارنا ، ہر نظر آنے والے ذی روح کی “دینی” حالت پر افسوس کرکے اس کے لئے اپنی جیسی “ھدایت” کی طلب کرنا دین ہے۔۔اپنی مذہبی سوچ کو زبردستی دوسرے پر مسلط کرنا ، … مکمل تحریر پڑھیں

اوطاق

اوطاق *** گھروں میں دیوار کے ساتھ اوطاق بنے ہوتے ہیں “قدِ آدم”کے حساب سے بنے ہوتے ہیں۔ بعض علاقوں میں اوطاق “بیٹھک ” ، “ڈیرے” ، “حجرے” کو بھی کہتے ہیں۔اور شاید جیل کی کوٹھری کو بھی “اوطاق ” کہتے ہیں ۔ مجھے جو یاد ہے، سن کر ٹھیک یاد رکھا یا غلط ،معلوم نہیں۔ میں “اوطاق” اسے ہی سمجھتا ہوں جنہیں ہم الماریاں بھی کہتے ہیں۔ ان میں کتابیں بھی رکھی جاتی ہیں، کپڑے بھی رکھے جاتے ہیں، جوتے بھی رکھے جاتے ہیں۔… ہمیں معلوم ہوتا ہے۔ کہ “کیا ” اور “کہاں” پر اور”کیا” پڑا ہوا ہے۔”کیوں” کا … مکمل تحریر پڑھیں